EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جلی ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں
کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں

داغؔ دہلوی




جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں

داغؔ دہلوی




جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں

داغؔ دہلوی




جس جگہ بیٹھے مرا چرچا کیا
خود ہوئے رسوا مجھے رسوا کیا

داغؔ دہلوی




جس خط پہ یہ لگائی اسی کا ملا جواب
اک مہر میرے پاس ہے دشمن کے نام کی

داغؔ دہلوی




جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں

داغؔ دہلوی




جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا

داغؔ دہلوی