EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جوش رحمت کے واسطے زاہد
ہے ذرا سی گناہ گاری شرط

داغؔ دہلوی




کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہو
دو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو

داغؔ دہلوی




خار حسرت بیان سے نکلا
دل کا کانٹا زبان سے نکلا

داغؔ دہلوی




کی ترک مے تو مائل پندار ہو گیا
میں توبہ کر کے اور گنہ گار ہو گیا

داغؔ دہلوی




کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیں
عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

داغؔ دہلوی




کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا
تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں

داغؔ دہلوی




کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیا
وہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں

داغؔ دہلوی