جوش رحمت کے واسطے زاہد
ہے ذرا سی گناہ گاری شرط
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہو
دو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خار حسرت بیان سے نکلا
دل کا کانٹا زبان سے نکلا
داغؔ دہلوی
کی ترک مے تو مائل پندار ہو گیا
میں توبہ کر کے اور گنہ گار ہو گیا
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کوئی چھینٹا پڑے تو داغؔ کلکتے چلے جائیں
عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| کولکتہ |
| 2 لائنیں شیری |
کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا
تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں
داغؔ دہلوی
کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیا
وہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں
داغؔ دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

