EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

داغؔ دہلوی




حضرت داغؔ ہے یہ کوچۂ قاتل اٹھئے
جس جگہ بیٹھتے ہیں آپ تو جم جاتے ہیں

داغؔ دہلوی




حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے

داغؔ دہلوی




حضرت دل آپ ہیں کس دھیان میں
مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

داغؔ دہلوی




ہو چکا عیش کا جلسہ تو مجھے خط بھیجا
آپ کی طرح سے مہمان بلائے کوئی

داغؔ دہلوی




ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاج
میرے کوچے میں بھی صحرا چاہئے

داغؔ دہلوی




ہوا ہے چار سجدوں پر یہ دعویٰ زاہدو تم کو
خدا نے کیا تمہارے ہاتھ جنت بیچ ڈالی ہے

داغؔ دہلوی