جانے کتنے لوگ شامل تھے مری تخلیق میں
میں تو بس الفاظ میں تھا شاعری میں کون تھا
بھارت بھوشن پنت
کہیں جیسے میں کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہوں
پہن لیتا ہوں جب دستار تو سر بھول جاتا ہوں
بھارت بھوشن پنت
خاموشی میں چاہے جتنا بیگانہ پن ہو
لیکن اک آہٹ جانی پہچانی ہوتی ہے
بھارت بھوشن پنت
کتنا آسان تھا بچپن میں سلانا ہم کو
نیند آ جاتی تھی پریوں کی کہانی سن کر
بھارت بھوشن پنت
میں اب جو ہر کسی سے اجنبی سا پیش آتا ہوں
مجھے اپنے سے یہ وابستگی مجبور کرتی ہے
بھارت بھوشن پنت
میں اپنے لفظ یوں باتوں میں ضائع کر نہیں سکتا
مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے اسے شعروں میں کہتا ہوں
بھارت بھوشن پنت
میں نے مانا ایک گہر ہوں پھر بھی صدف میں ہوں
مجھ کو آخر یوں ہی گھٹ کر کب تک رہنا ہے
بھارت بھوشن پنت

