EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جانے کتنے لوگ شامل تھے مری تخلیق میں
میں تو بس الفاظ میں تھا شاعری میں کون تھا

بھارت بھوشن پنت




کہیں جیسے میں کوئی چیز رکھ کر بھول جاتا ہوں
پہن لیتا ہوں جب دستار تو سر بھول جاتا ہوں

بھارت بھوشن پنت




خاموشی میں چاہے جتنا بیگانہ پن ہو
لیکن اک آہٹ جانی پہچانی ہوتی ہے

بھارت بھوشن پنت




کتنا آسان تھا بچپن میں سلانا ہم کو
نیند آ جاتی تھی پریوں کی کہانی سن کر

بھارت بھوشن پنت




میں اب جو ہر کسی سے اجنبی سا پیش آتا ہوں
مجھے اپنے سے یہ وابستگی مجبور کرتی ہے

بھارت بھوشن پنت




میں اپنے لفظ یوں باتوں میں ضائع کر نہیں سکتا
مجھے جو کچھ بھی کہنا ہے اسے شعروں میں کہتا ہوں

بھارت بھوشن پنت




میں نے مانا ایک گہر ہوں پھر بھی صدف میں ہوں
مجھ کو آخر یوں ہی گھٹ کر کب تک رہنا ہے

بھارت بھوشن پنت