EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں تھوڑی دیر بھی آنکھوں کو اپنی بند کر لوں تو
اندھیروں میں مجھے اک روشنی محسوس ہوتی ہے

بھارت بھوشن پنت




سبب خاموشیوں کا میں نہیں تھا
مرے گھر میں سبھی کم بولتے تھے

بھارت بھوشن پنت




شاید بتا دیا تھا کسی نے مرا پتہ
میلوں مری تلاش میں رستہ نکل گیا

بھارت بھوشن پنت




سورج سے اس کا نام و نسب پوچھتا تھا میں
اترا نہیں ہے رات کا نشہ ابھی تلک

بھارت بھوشن پنت




تو ہمیشہ مانگتا رہتا ہے کیوں غم سے نجات
غم نہیں ہوں گے تو کیا تیری خوشی بڑھ جائے گی

بھارت بھوشن پنت




امیدوں سے پردہ رکھا خوشیوں سے محروم رہیں
خواب مرا تو چالس دن تک سوگ منایا آنکھوں نے

بھارت بھوشن پنت




اس کو بھی میری طرح اپنی وفا پر تھا یقیں
وہ بھی شاید اسی دھوکے میں ملا تھا مجھ کو

بھارت بھوشن پنت