اسے اک بت کے آگے سر جھکاتے سب نے دیکھا ہے
وہ کافر ہی سہی پکا مگر ایمان رکھتا ہے
بھارت بھوشن پنت
ورنہ تو ہم منظر اور پس منظر میں الجھے رہتے
ہم نے بھی سچ مان لیا جو کچھ دکھلایا آنکھوں نے
بھارت بھوشن پنت
یاد بھی آتا نہیں کچھ بھولتا بھی کچھ نہیں
یا بہت مصروف ہوں میں یا بہت فرصت میں ہوں
بھارت بھوشن پنت
یہ کیا کہ روز پہنچ جاتا ہوں میں گھر اپنے
اب اپنی جیب میں اپنا پتہ نہ رکھا جائے
بھارت بھوشن پنت
یہ کیا کہ روز ابھرتے ہو روز ڈوبتے ہو
تم ایک بار میں غرقاب کیوں نہیں ہوتے
بھارت بھوشن پنت
یہ سب تو دنیا میں ہوتا رہتا ہے
ہم خود سے بیکار الجھنے لگتے ہیں
بھارت بھوشن پنت
یہ سورج کب نکلتا ہے انہیں سے پوچھنا ہوگا
سحر ہونے سے پہلے ہی جو بستر چھوڑ دیتے ہیں
بھارت بھوشن پنت

