EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اسے اک بت کے آگے سر جھکاتے سب نے دیکھا ہے
وہ کافر ہی سہی پکا مگر ایمان رکھتا ہے

بھارت بھوشن پنت




ورنہ تو ہم منظر اور پس منظر میں الجھے رہتے
ہم نے بھی سچ مان لیا جو کچھ دکھلایا آنکھوں نے

بھارت بھوشن پنت




یاد بھی آتا نہیں کچھ بھولتا بھی کچھ نہیں
یا بہت مصروف ہوں میں یا بہت فرصت میں ہوں

بھارت بھوشن پنت




یہ کیا کہ روز پہنچ جاتا ہوں میں گھر اپنے
اب اپنی جیب میں اپنا پتہ نہ رکھا جائے

بھارت بھوشن پنت




یہ کیا کہ روز ابھرتے ہو روز ڈوبتے ہو
تم ایک بار میں غرقاب کیوں نہیں ہوتے

بھارت بھوشن پنت




یہ سب تو دنیا میں ہوتا رہتا ہے
ہم خود سے بیکار الجھنے لگتے ہیں

بھارت بھوشن پنت




یہ سورج کب نکلتا ہے انہیں سے پوچھنا ہوگا
سحر ہونے سے پہلے ہی جو بستر چھوڑ دیتے ہیں

بھارت بھوشن پنت