EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بس ذرا اک آئنے کے ٹوٹنے کی دیر تھی
اور میں باہر سے اندر کی طرح لگنے لگا

بھارت بھوشن پنت




دامن کے چاک سینے کو بیٹھے ہیں جب بھی ہم
کیوں بار بار سوئی سے دھاگا نکل گیا

بھارت بھوشن پنت




ایک جیسے لگ رہے ہیں اب سبھی چہرے مجھے
ہوش کی یہ انتہا ہے یا بہت نشے میں ہوں

بھارت بھوشن پنت




گھر سے نکل کر جاتا ہوں میں روز کہاں
اک دن اپنا پیچھا کر کے دیکھا جائے

بھارت بھوشن پنت




ہم کافروں نے شوق میں روزہ تو رکھ لیا
اب حوصلہ بڑھانے کو افطار بھی تو ہو

بھارت بھوشن پنت




ہم سرابوں میں ہوئے داخل تو یہ ہم پر کھلا
تشنگی سب میں تھی لیکن تشنگی میں کون تھا

بھارت بھوشن پنت




ہم وہ صحرا کے مسافر ہیں ابھی تک جن کی
پیاس بجھتی ہے سرابوں کی کہانی سن کر

بھارت بھوشن پنت