سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے
ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو
بیخود دہلوی
سن کے ساری داستان رنج و غم
کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں
بیخود دہلوی
تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ
کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے
بیخود دہلوی
تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں
بیخود دہلوی
تری تیغ کا لال کر دوں گا منہ
جو یہ کھیلنے مجھ سے آئے گی رنگ
بیخود دہلوی
تمہارے ہاتھ خالی جیب خالی زلف خالی تھی
نہ تھے تم چور دل کے لو ادھر دیکھو یہ کیا نکلا
بیخود دہلوی
تمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں
جو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا
بیخود دہلوی

