EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے
ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

بیخود دہلوی




سن کے ساری داستان رنج و غم
کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

بیخود دہلوی




تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ
کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے

بیخود دہلوی




تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں

بیخود دہلوی




تری تیغ کا لال کر دوں گا منہ
جو یہ کھیلنے مجھ سے آئے گی رنگ

بیخود دہلوی




تمہارے ہاتھ خالی جیب خالی زلف خالی تھی
نہ تھے تم چور دل کے لو ادھر دیکھو یہ کیا نکلا

بیخود دہلوی




تمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں
جو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا

بیخود دہلوی