EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

محفل وہی مکان وہی آدمی وہی
یا ہم نئے ہیں یا تری عادت بدل گئی

بیخود دہلوی




موت آ رہی ہے وعدے پہ یا آ رہے ہو تم
کم ہو رہا ہے درد دل بے قرار کا

بیخود دہلوی




میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ
میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

بیخود دہلوی




ملا کے خاک میں سرمایۂ دل بیخودؔ
وہ پوچھتے ہیں بتاؤ یہ مال کس کا تھا

بیخود دہلوی




محبت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
فدا لیلیٰ پہ تھا آنکھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں

بیخود دہلوی




منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر
جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

بیخود دہلوی




منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے

بیخود دہلوی