EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

بیخود دہلوی




قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بیخود دہلوی




راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے
آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

بیخود دہلوی




رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا
خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو

بیخود دہلوی




رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ
پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے

بیخود دہلوی




سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے
ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے

بیخود دہلوی




سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے
مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

بیخود دہلوی