پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| تغافل |
| 2 لائنیں شیری |
قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں
بیخود دہلوی
راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے
آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا
خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ
پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| رند |
| 2 لائنیں شیری |
سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے
ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے
مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا
بیخود دہلوی

