EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند
دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

بیخود دہلوی




نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

بیخود دہلوی




نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

بیخود دہلوی




نامہ بر یہ تو کہی بات پتے کی تو نے
ذکر اس بزم میں رہتا تو ہے اکثر اپنا

بیخود دہلوی




نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

بیخود دہلوی




نو گرفتار محبت ہوں وفا مجھ میں کہاں
کم سے کم دل ابھی سو بار تو آنے دیجے

بیخود دہلوی




نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں
جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

بیخود دہلوی