مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند
دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند
بیخود دہلوی
نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں
بیخود دہلوی
نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا
بیخود دہلوی
نامہ بر یہ تو کہی بات پتے کی تو نے
ذکر اس بزم میں رہتا تو ہے اکثر اپنا
بیخود دہلوی
نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں
بیخود دہلوی
نو گرفتار محبت ہوں وفا مجھ میں کہاں
کم سے کم دل ابھی سو بار تو آنے دیجے
بیخود دہلوی
نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں
جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا
بیخود دہلوی

