ان کے آتے ہی ہوا حسرت و ارماں کا ہجوم
آج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل
بیخود دہلوی
وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے
کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| وفا |
| 2 لائنیں شیری |
وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا
بیخود دہلوی
یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو
مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| رقیب |
| 2 لائنیں شیری |
زاہدوں سے نہ بنی حشر کے دن بھی یارب
وہ کھڑے ہیں تری رحمت کے طلب گار جدا
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا
نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں
بیخود دہلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

