EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ان کے آتے ہی ہوا حسرت و ارماں کا ہجوم
آج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں

بیخود دہلوی




انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

بیخود دہلوی




وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے
کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا

بیخود دہلوی




وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

بیخود دہلوی




یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو
مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

بیخود دہلوی




زاہدوں سے نہ بنی حشر کے دن بھی یارب
وہ کھڑے ہیں تری رحمت کے طلب گار جدا

بیخود دہلوی




زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا
نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں

بیخود دہلوی