اثر نہ پوچھیے ساقی کی مست آنکھوں کا
یہ دیکھیے کہ کوئی ہوشیار باقی ہے
بیتاب عظیم آبادی
کتنے الزام آخر اپنے سر
تم نے غیروں کو سر چڑھا کے لئے
بیتاب عظیم آبادی
لڑ گئی ان سے نظر کھنچ گئے ابرو ان کے
معرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے
بیتاب عظیم آبادی
تڑپ کے رہ گئی بلبل قفس میں اے صیاد
یہ کیا کہا کہ ابھی تک بہار باقی ہے
بیتاب عظیم آبادی
آج کھلیں گے مرے خون سے ہولی سب لوگ
کتنا رنگین ہر اک شخص کا داماں ہوگا
بیتاب سوری
آنکھوں میں ایک بار ابھرنے کی دیر تھی
پھر آنسوؤں نے آپ ہی رستے بنا لیے
بھارت بھوشن پنت
اب تو اتنی بار ہم رستے میں ٹھوکر کھا چکے
اب تو ہم کو بھی وہ پتھر دیکھ لینا چاہئے
بھارت بھوشن پنت

