EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اثر نہ پوچھیے ساقی کی مست آنکھوں کا
یہ دیکھیے کہ کوئی ہوشیار باقی ہے

بیتاب عظیم آبادی




کتنے الزام آخر اپنے سر
تم نے غیروں کو سر چڑھا کے لئے

بیتاب عظیم آبادی




لڑ گئی ان سے نظر کھنچ گئے ابرو ان کے
معرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے

بیتاب عظیم آبادی




تڑپ کے رہ گئی بلبل قفس میں اے صیاد
یہ کیا کہا کہ ابھی تک بہار باقی ہے

بیتاب عظیم آبادی




آج کھلیں گے مرے خون سے ہولی سب لوگ
کتنا رنگین ہر اک شخص کا داماں ہوگا

بیتاب سوری




آنکھوں میں ایک بار ابھرنے کی دیر تھی
پھر آنسوؤں نے آپ ہی رستے بنا لیے

بھارت بھوشن پنت




اب تو اتنی بار ہم رستے میں ٹھوکر کھا چکے
اب تو ہم کو بھی وہ پتھر دیکھ لینا چاہئے

بھارت بھوشن پنت