EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی
سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

بیخود دہلوی




چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں
ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

بیخود دہلوی




دی قسم وصل میں اس بت کو خدا کی تو کہا
تجھ کو آتا ہے خدا یاد ہمارے ہوتے

بیخود دہلوی




دل چرا کر لے گیا تھا کوئی شخص
پوچھنے سے فائدہ، تھا کوئی شخص

بیخود دہلوی




دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت
ایسی چیزوں کے کہیں دام دیے جاتے ہیں

بیخود دہلوی




دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں
میرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں

بیخود دہلوی




دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ
اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

بیخود دہلوی