EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس جبین عرق افشاں پہ نہ چنئے افشاں
یہ ستارے کہیں مل جائیں نہ سیاروں میں

بیخود دہلوی




جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

بیخود دہلوی




جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں
ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

بیخود دہلوی




جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے
اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

بیخود دہلوی




کوئی اس طرح سے ملنے کا مزا ملتا ہے
اوپری دل سے وہ ملتا ہے تو کیا ملتا ہے

بیخود دہلوی




کچھ طرح رندوں نے دی کچھ محتسب بھی دب گیا
چھیڑ آپس میں سر بازار ہو کر رہ گئی

بیخود دہلوی




کیا کہہ دیا یہ آپ نے چپکے سے کان میں
دل کا سنبھالنا مجھے دشوار ہو گیا

بیخود دہلوی