EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان
ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے

بقا اللہ بقاؔ




دوست ناراض ہو گئے کتنے
اک ذرا آئنہ دکھانے میں

باقی احمد پوری




ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بے چراغ
تیرگی سے آپ کو میرا پتا مل جائے گا

باقی احمد پوری




سب دوست مصلحت کے دکانوں میں بک گئے
دشمن تو پرخلوص عداوت میں اب بھی ہے

باقی احمد پوری




باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو

باقی صدیقی




بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے

باقی صدیقی




دل کی دیوار گر گئی شاید
اپنی آواز کان میں آئی

باقی صدیقی