EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بس پائے جنوں سیر بیاباں تو بہت کی
اب خانۂ زنجیر میں ٹک بیٹھ کے دم لے

بقا اللہ بقاؔ




بلبل سے کہا گل نے کر ترک ملاقاتیں
غنچے نے گرہ باندھیں جو گل نے کہیں باتیں

بقا اللہ بقاؔ




چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے
میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ

بقا اللہ بقاؔ




دیکھ آئینہ جو کہتا ہے کہ اللہ رے میں
اس کا میں دیکھنے والا ہوں بقاؔ واہ رے میں

بقا اللہ بقاؔ




دیکھا تو ایک شعلے سے اے شیخ و برہمن
روشن ہیں شمع دیر و چراغ حرم بہم

بقا اللہ بقاؔ




دلا اٹھائیے ہر طرح اس کی چشم کا ناز
زمانہ بہ تو نسازد تو با زمانہ بساز

بقا اللہ بقاؔ




ہے دل میں گھر کو شہر سے صحرا میں لے چلیں
اٹھوا کے آنسوؤں سے در و بام دوش پر

بقا اللہ بقاؔ