EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی
تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو

باقی صدیقی




ہر نئے حادثے پہ حیرانی
پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی

باقی صدیقی




ہر یاد ہر خیال ہے لفظوں کا سلسلہ
یہ محفل نوا ہے یہاں بولتے رہو

باقی صدیقی




ہو گئے چپ ہمیں پاگل کہہ کر
جب کسی نے بھی نہ سمجھا ہم کو

باقی صدیقی




اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے

باقی صدیقی




کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا

باقی صدیقی




کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

باقی صدیقی