EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے

باقی صدیقی




کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے

باقی صدیقی




پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں

باقی صدیقی




راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجھ لے گا وہ تنہا ہوگا

باقی صدیقی




رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں

باقی صدیقی




تیرے غم سے تو سکون ملتا ہے
اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو

باقی صدیقی




تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا

باقی صدیقی