خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجھ لے گا وہ تنہا ہوگا
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیرے غم سے تو سکون ملتا ہے
اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کوئی کیا ہوگا
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

