EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہے دل میں گھر کو شہر سے صحرا میں لے چلیں
اٹھوا کے آنسوؤں سے در و بام دوش پر

بقا اللہ بقاؔ




اس بزم میں پوچھے نہ کوئی مجھ سے کہ کیا ہوں
جو شیشہ گرے سنگ پہ میں اس کی صدا ہوں

بقا اللہ بقاؔ




عشق میں بو ہے کبریائی کی
عاشقی جس نے کی خدائی کی

بقا اللہ بقاؔ




عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں
داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

بقا اللہ بقاؔ




کعبہ تو سنگ و خشت سے اے شیخ مل بنا
کچھ سنگ بچ رہا تھا سو اس بت کا دل بنا

بقا اللہ بقاؔ




کل کے دن جو گرد مے خانے کے پھرتے تھے خراب
آج مسجد میں جو دیکھا صاحب سجادہ ہیں

بقا اللہ بقاؔ




خال لب آفت جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا
دام دانے میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بقا اللہ بقاؔ