EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں

باقی صدیقی




دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں

باقی صدیقی




دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو

باقی صدیقی




دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے
ہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں

باقی صدیقی




ایک دیوار اٹھانے کے لیے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں

باقی صدیقی




ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے

باقی صدیقی




ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں
اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم

باقی صدیقی