دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں
کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دنیا نے ہر بات میں کیا کیا رنگ بھرے
ہم سادہ اوراق الٹتے جاتے ہیں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک دیوار اٹھانے کے لیے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں
اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم
باقی صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

