EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرے اندر ڈھنڈورا پیٹتا ہے کوئی رہ رہ کے
جو اپنی خیریت چاہے وہ بستی سے نکل جائے

عزیز بانو داراب وفا




مرے اندر سے یوں پھینکی کسی نے روشنی مجھ پر
کہ پل بھر میں مری ساری حقیقت کھل گئی مجھ پر

عزیز بانو داراب وفا




مجھے چکھتے ہی کھو بیٹھا وہ جنت اپنے خوابوں کی
بہت ملتا ہوا تھا زندگی سے ذائقہ میرا

عزیز بانو داراب وفا




مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا
پرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا

عزیز بانو داراب وفا




نکل پڑے نہ کہیں اپنی آڑ سے کوئی
تمام عمر کا پردہ نہ توڑ دے کوئی

عزیز بانو داراب وفا




پکڑنے والے ہیں سب خیمے آگ اور بے ہوش
پڑے ہیں قافلہ سالار مشعلوں کے قریب

عزیز بانو داراب وفا




شہر خوابوں کا سلگتا رہا اور شہر کے لوگ
بے خبر سوئے ہوئے اپنے مکانوں میں ملے

عزیز بانو داراب وفا