مرے اندر ڈھنڈورا پیٹتا ہے کوئی رہ رہ کے
جو اپنی خیریت چاہے وہ بستی سے نکل جائے
عزیز بانو داراب وفا
مرے اندر سے یوں پھینکی کسی نے روشنی مجھ پر
کہ پل بھر میں مری ساری حقیقت کھل گئی مجھ پر
عزیز بانو داراب وفا
مجھے چکھتے ہی کھو بیٹھا وہ جنت اپنے خوابوں کی
بہت ملتا ہوا تھا زندگی سے ذائقہ میرا
عزیز بانو داراب وفا
مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا
پرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا
عزیز بانو داراب وفا
نکل پڑے نہ کہیں اپنی آڑ سے کوئی
تمام عمر کا پردہ نہ توڑ دے کوئی
عزیز بانو داراب وفا
پکڑنے والے ہیں سب خیمے آگ اور بے ہوش
پڑے ہیں قافلہ سالار مشعلوں کے قریب
عزیز بانو داراب وفا
شہر خوابوں کا سلگتا رہا اور شہر کے لوگ
بے خبر سوئے ہوئے اپنے مکانوں میں ملے
عزیز بانو داراب وفا

