EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس نے چاہا تھا کہ چھپ جائے وہ اپنے اندر
اس کی قسمت کہ کسی اور کا وہ گھر نکلا

عزیز بانو داراب وفا




وفا کے نام پر پیرا کئے کچے گھڑے لے کر
ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے

عزیز بانو داراب وفا




وقت حاکم ہے کسی روز دلا ہی دے گا
دل کے سیلاب زدہ شہر پہ قبضہ مجھ کو

عزیز بانو داراب وفا




ورق الٹ دیا کرتا ہے بے خیالی میں
وہ شخص جب مرا چہرہ کتاب ہوتا ہے

عزیز بانو داراب وفا




وہ مرا سایہ مرے پیچھے لگا کر کھو گیا
جب کبھی دیکھا ہے اس نے بھیڑ میں شامل مجھے

عزیز بانو داراب وفا




وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو
اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو

عزیز بانو داراب وفا




یہ حوصلہ بھی کسی روز کر کے دیکھوں گی
اگر میں زخم ہوں اس کا تو بھر کے دیکھوں گی

عزیز بانو داراب وفا