اس نے چاہا تھا کہ چھپ جائے وہ اپنے اندر
اس کی قسمت کہ کسی اور کا وہ گھر نکلا
عزیز بانو داراب وفا
وفا کے نام پر پیرا کئے کچے گھڑے لے کر
ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے
عزیز بانو داراب وفا
وقت حاکم ہے کسی روز دلا ہی دے گا
دل کے سیلاب زدہ شہر پہ قبضہ مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
ورق الٹ دیا کرتا ہے بے خیالی میں
وہ شخص جب مرا چہرہ کتاب ہوتا ہے
عزیز بانو داراب وفا
وہ مرا سایہ مرے پیچھے لگا کر کھو گیا
جب کبھی دیکھا ہے اس نے بھیڑ میں شامل مجھے
عزیز بانو داراب وفا
وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو
اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
یہ حوصلہ بھی کسی روز کر کے دیکھوں گی
اگر میں زخم ہوں اس کا تو بھر کے دیکھوں گی
عزیز بانو داراب وفا

