شیو تو نہیں ہم پھر بھی ہم نے دنیا بھر کے زہر پئے
اتنی کڑواہٹ ہے منہ میں کیسے میٹھی بات کریں
عزیز بانو داراب وفا
سننے والے مرا قصہ تجھے کیا لگتا ہے
چور دروازہ کہانی کا کھلا لگتا ہے
عزیز بانو داراب وفا
تمام عمر کسی اور نام سے مجھ کو
پکارتا رہا اک اجنبی زبان میں وہ
عزیز بانو داراب وفا
ٹٹولتا ہوا کچھ جسم و جان تک پہنچا
وہ آدمی جو مری داستان تک پہنچا
عزیز بانو داراب وفا
تشنگی میری مسلم ہے مگر جانے کیوں
لوگ دے دیتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیالے مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
عمر بھر راستے گھیرے رہے اس شخص کا گھر
عمر بھر خوف کے مارے نہ وہ باہر نکلا
عزیز بانو داراب وفا
اس کی ہر بات سمجھ کر بھی میں انجان رہی
چاندنی رات میں ڈھونڈا کیا جگنو وہ بھی
عزیز بانو داراب وفا

