EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

شیو تو نہیں ہم پھر بھی ہم نے دنیا بھر کے زہر پئے
اتنی کڑواہٹ ہے منہ میں کیسے میٹھی بات کریں

عزیز بانو داراب وفا




سننے والے مرا قصہ تجھے کیا لگتا ہے
چور دروازہ کہانی کا کھلا لگتا ہے

عزیز بانو داراب وفا




تمام عمر کسی اور نام سے مجھ کو
پکارتا رہا اک اجنبی زبان میں وہ

عزیز بانو داراب وفا




ٹٹولتا ہوا کچھ جسم و جان تک پہنچا
وہ آدمی جو مری داستان تک پہنچا

عزیز بانو داراب وفا




تشنگی میری مسلم ہے مگر جانے کیوں
لوگ دے دیتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیالے مجھ کو

عزیز بانو داراب وفا




عمر بھر راستے گھیرے رہے اس شخص کا گھر
عمر بھر خوف کے مارے نہ وہ باہر نکلا

عزیز بانو داراب وفا




اس کی ہر بات سمجھ کر بھی میں انجان رہی
چاندنی رات میں ڈھونڈا کیا جگنو وہ بھی

عزیز بانو داراب وفا