EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ جانے کون اپاہج بنا رہا ہے ہمیں
سفر میں ترک سفر کا خیال کیوں آیا

عزیز احمد خاں شفق




رات اک شخص بہت یاد آیا
جس گھڑی چاند نمودار ہوا

عزیز احمد خاں شفق




شفقؔ کا رنگ کتنے والہانہ پن سے بکھرا ہے
زمیں و آسماں نے مل کے عنوان سحر لکھا

عزیز احمد خاں شفق




اپنے لیے ہی مشکل ہے
عزت سے جی پانا بھی

عزیز انصاری




ہماری مفلسی آوارگی پہ تم کو حیرت کیوں
ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سوغاتیں تمہاری ہیں

عزیز انصاری




یہ اپنی بے بسی ہے یا کہ اپنی بے حسی یارو
ہے اپنا ہاتھ ان کے سامنے جو خود بھکاری ہیں

عزیز انصاری




آئینہ خانے میں کھینچے لئے جاتا ہے مجھے
کون میری ہی عدالت میں بلاتا ہے مجھے

عزیز بانو داراب وفا