EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خیال آتا ہے اکثر اتار پھینکوں بدن
کہ یہ لباس مری خاک سے زیادہ ہے

عظیم حیدر سید




کس لیے خود کو سمجھتا ہے وہ پتھر کی لکیر
اس کا انکار بھی اقرار میں آ سکتا ہے

عظیم حیدر سید




لباس دیکھ کے اتنا ہمیں غریب نہ جان
ہمارا غم تری املاک سے زیادہ ہے

عظیم حیدر سید




سر پہ سورج ہے تو پھر چھاؤں سے محظوظ نہ ہو
دھوپ کا رنگ بھی دیوار میں آ سکتا ہے

عظیم حیدر سید




نشہ ٹوٹا نہیں ہے مار کھا کر
کہ ہم نے پی ہے کم کھائی بہت ہے

عزیز احمد




اندھیرا اتنا ہے اب شہر کے محافظ کو
ہر ایک رات کوئی گھر جلانا پڑتا ہے

عزیز احمد خاں شفق




بہت دنوں سے ادھر اس کو یاد بھی نہ کیا
بہت دنوں سے ادھر کا خیال کیوں آیا

عزیز احمد خاں شفق