EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کسی بزدل کی صورت گھر سے یہ باہر نکلتا ہے
مرا غصہ کسی کمزور کے اوپر نکلتا ہے

اظہر نواز




کوئی کردار ادا کرتا ہے قیمت اس کی
جب کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے

اظہر نواز




محترم کہہ کے مجھے اس نے پشیمان کیا
کوئی پہلو نہ ملا جب مری رسوائی کا

اظہر نواز




مجھ کو ہر سمت لے کے جاتا ہے
ایک امکان تیرے ہونے کا

اظہر نواز




ثبوت برق کی غارت گری کا کس سے ملے
کہ آشیاں تھا جہاں اب وہاں دھواں بھی نہیں

اظہر سعید




چمن اجاڑنے والو تمہیں خدا سمجھے
تمہیں نہ آئی حیا پھول تو ہمارے گئے

عظیم حیدر سید




دینے والے تو مجھے نیند نہ دے خواب تو دے
مجھ کو مہتاب سے آگے بھی کہیں جانا ہے

عظیم حیدر سید