EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ایک منزل ہے مگر راہ کئی ہیں اظہرؔ
سوچنا یہ ہے کہ جاؤ گے کدھر سے پہلے

اظہر لکھنوی




یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا
وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا

اظہر لکھنوی




بہ وقت شام سمندر میں گر گیا سورج
تمام دن کی تھکن سے نڈھال ایسا تھا

اظہر نیر




چاہا ہے جس کا سایہ شجر وہ ببول ہے
قسمت میں میرے آج بھی سڑکوں کی دھول ہے

اظہر نیر




دل خاک ہوا پیار کی اس آگ میں جل کر
اور جھانک کے اس نے کبھی اندر نہیں دیکھا

اظہر نیر




تھی اس کی بند مٹھی میں چٹھی دبی ہوئی
جو شخص تھا ٹرین کے نیچے کٹا ہوا

اظہر نیر




تم بحر محبت کے کنارے پہ کھڑے تھے
تم نے مری آنکھوں میں سمندر نہیں دیکھا

اظہر نیر