EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گھٹن سے بچ کے کہیں سانس لے نہیں سکتے
جہاں بھی جائیں یہ کالا دھواں تو سر پر ہے

ارمان نجمی




ہوا ہے قریۂ جاں میں یہ سانحہ کیسا
مرے وجود کے اندر ہے زلزلہ کیسا

ارمان نجمی




عرشؔ کس دوست کو اپنا سمجھوں
سب کے سب دوست ہیں دشمن کی طرف

عرش ملسیانی




عرشؔ پہلے یہ شکایت تھی خفا ہوتا ہے وہ
اب یہ شکوہ ہے کہ وہ ظالم خفا ہوتا نہیں

عرش ملسیانی




بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت ہے
حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

عرش ملسیانی




بس اسی دھن میں رہا مر کے ملے گی جنت
تم کو اے شوخ نہ جینے کا قرینہ آیا

عرش ملسیانی




چمن میں کون ہے پرسان حال شبنم کا
غریب روئی تو غنچوں کو بھی ہنسی آئی

عرش ملسیانی