EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی بھی سجنی کسی بھی ساجن کی منتظر ہے نہ مضطرب ہے
تمام بام اور در بجھے ہیں کہیں بھی روشن دیا نہیں ہے

انور علیمی




کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے
کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا

انور انجم




ہمارے عشق اور ان کے تغافل کا یہ عالم ہے
کہ ہم دل ہار بیٹھے ہیں وہ لینے ہار لیٹے ہیں

انور بریلوی




اللہ رے فرط شوق اسیری کی شوق میں
پہروں اٹھا اٹھا کے سلاسل کو دیکھنا

انور دہلوی




انورؔ نے بدلے جان کے لی جنس درد دل
اور اس پہ ناز یہ کہ یہ سودا گراں نہ تھا

انور دہلوی




بے طرح پڑتی ہے نظر ان کی
خیر دل کی نظر نہیں آتی

انور دہلوی




گرچہ کیا کچھ تھے مگر آپ کو کچھ بھی نہ گنا
عشق برہم زن کاشانۂ پندار رہا

انور دہلوی