کوئی بھی سجنی کسی بھی ساجن کی منتظر ہے نہ مضطرب ہے
تمام بام اور در بجھے ہیں کہیں بھی روشن دیا نہیں ہے
انور علیمی
کبھی کبھی تو یہ دل میں سوال اٹھتا ہے
کہ اس جدائی میں کیا اس نے پا لیا ہوگا
انور انجم
ہمارے عشق اور ان کے تغافل کا یہ عالم ہے
کہ ہم دل ہار بیٹھے ہیں وہ لینے ہار لیٹے ہیں
انور بریلوی
اللہ رے فرط شوق اسیری کی شوق میں
پہروں اٹھا اٹھا کے سلاسل کو دیکھنا
انور دہلوی
انورؔ نے بدلے جان کے لی جنس درد دل
اور اس پہ ناز یہ کہ یہ سودا گراں نہ تھا
انور دہلوی
بے طرح پڑتی ہے نظر ان کی
خیر دل کی نظر نہیں آتی
انور دہلوی
گرچہ کیا کچھ تھے مگر آپ کو کچھ بھی نہ گنا
عشق برہم زن کاشانۂ پندار رہا
انور دہلوی

