EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمارے دور کی تاریکیاں مٹانے کو
سحاب درد سے خوشیوں کا چاند ابھرا ہے

خالد سہیل




کشتیاں مضبوط سب بہہ جائیں گی سیلاب میں
کاغذی اک ناؤ میری ذات کی رہ جائے گی

خالد سہیل




فن کا دعویٰ ہے تو کچھ جرأت اظہار بھی ہو
زیب دیتا نہیں فن کار کو بزدل ہونا

خالد یوسف




ہم نے مانا کہ ترے شہر میں سب اچھا ہے
کوئی عیسیٰ ہو تو مل جائیں گے بیمار بہت

خالد یوسف




اسے خبر ہے کہ انجام وصل کیا ہوگا
وہ قربتوں کی تپش فاصلے میں رکھتی ہے

خالد یوسف




یہ ادائیں یہ اشارے یہ حسیں قول و قرار
کتنے آداب کے پردے میں ہے انکار کی بات

خالد یوسف




بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں
کوئی خیال کسی یاد کے حصار میں ہے

خالدہ عظمی