EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیکھنے والا کوئی ملے تو دل کے داغ دکھاؤں
یہ نگری اندھوں کی نگری کس کو کیا سمجھاؤں

خلیلؔ الرحمن اعظمی




دنیا بھر کی رام کہانی کس کس ڈھنگ سے کہہ ڈالی
اپنی کہنے جب بیٹھے تو ایک ایک لفظ پگھلتا تھا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




دنیا داری تو کیا آتی دامن سینا سیکھ لیا
مرنے کے تھے لاکھ بہانے پھر بھی جینا سیکھ لیا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




ہنگامۂ حیات سے جاں بر نہ ہو سکا
یہ دل عجیب دل ہے کہ پتھر نہ ہو سکا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




ہائے اس دست کرم ہی سے ملے جور و جفا
مجھ کو آغاز محبت ہی میں مر جانا تھا

خلیلؔ الرحمن اعظمی




ہائے وہ لوگ جن کے آنے کا
حشر تک انتظار ہوتا ہے

خلیلؔ الرحمن اعظمی




ہم نے خود اپنے آپ زمانے کی سیر کی
ہم نے قبول کی نہ کسی رہنما کی شرط

خلیلؔ الرحمن اعظمی