EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسو
بسا اوقات رونے کا سبب کچھ بھی نہیں ہوتا

خالدہ عظمی




حقیقتیں تو اٹل ہیں بدل نہیں سکتیں
مگر کسی کی تسلی سے حوصلہ ہوا ہے

خالدہ عظمی




ادھر ادھر کے سنائے ہزار افسانے
دلوں کی بات سنانے کا حوصلہ نہ ہوا

خالدہ عظمی




کی مرے بعد قتل سے توبہ
آخری تیر تھا کمان میں کیا

خالدہ عظمی




وہ تپش ہے کہ جل اٹھے سائے
دھوپ رکھی تھی سائبان میں کیا

خالدہ عظمی




یہ کیا خلش ہے کہ لو دے رہی ہے جذبوں کو
نہ جانے کون سا شعلہ میرے شرار میں ہے

خالدہ عظمی




زیست اور موت کا آخر یہ فسانہ کیا ہے
عمر کیوں حسب ضرورت نہیں دی جا سکتی

خالدہ عظمی