EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گلشن میں جو وصف اس کا کہوں دھیان لگا کر
ہر گل مری باتوں کو سنے کان لگا کر

جرأت قلندر بخش




ہاتھ ملتے ہوئے آج آتے ہیں سب رہ گزرے
جائے حیرت ہے کہ میں کیوں سر بازار نہ تھا

جرأت قلندر بخش




ہے عاشق و معشوق میں یہ فرق کہ محبوب
تصویر تفرج ہے وہ پتلا ہے الم کا

جرأت قلندر بخش




ہیں لازم و ملزوم بہم حسن و محبت
ہم ہوتے نہ طالب جو وہ مطلوب نہ ہوتا

جرأت قلندر بخش




حیراں نہ ہو سر دیکھ مرا اپنی زمیں پر
دیکھو تو لکھا کیا ہے مری لوح جبیں پر

جرأت قلندر بخش




ہم دوانوں کا یہ ہے دشت جنوں میں رتبہ
کہ قدم رکھتے ہی آ پاؤں سے ہر خار لگا

جرأت قلندر بخش




ہم گلشن حیرت میں ہیں پرواز کہاں کی
جوں بلبل تصویر کبھی ٹک نہ ہلے پر

جرأت قلندر بخش