گلشن میں جو وصف اس کا کہوں دھیان لگا کر
ہر گل مری باتوں کو سنے کان لگا کر
جرأت قلندر بخش
ہاتھ ملتے ہوئے آج آتے ہیں سب رہ گزرے
جائے حیرت ہے کہ میں کیوں سر بازار نہ تھا
جرأت قلندر بخش
ہے عاشق و معشوق میں یہ فرق کہ محبوب
تصویر تفرج ہے وہ پتلا ہے الم کا
جرأت قلندر بخش
ہیں لازم و ملزوم بہم حسن و محبت
ہم ہوتے نہ طالب جو وہ مطلوب نہ ہوتا
جرأت قلندر بخش
حیراں نہ ہو سر دیکھ مرا اپنی زمیں پر
دیکھو تو لکھا کیا ہے مری لوح جبیں پر
جرأت قلندر بخش
ہم دوانوں کا یہ ہے دشت جنوں میں رتبہ
کہ قدم رکھتے ہی آ پاؤں سے ہر خار لگا
جرأت قلندر بخش
ہم گلشن حیرت میں ہیں پرواز کہاں کی
جوں بلبل تصویر کبھی ٹک نہ ہلے پر
جرأت قلندر بخش

