EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس شعلہ خو کو دیکھ ہوا شیخ کا یہ حال
جبے کو آگ لگ اٹھی عمامہ جل گیا

جرأت قلندر بخش




اسلام سے برگشتہ نہ ہوتے بخدا ہم
گر عشق بتاں طبع کے مرغوب نہ ہوتا

جرأت قلندر بخش




جب تلک ہم نہ چاہتے تھے تجھے
تب تک ایسا ترا جمال نہ تھا

جرأت قلندر بخش




جہاں کے باغ میں ہم بھی بہار دکھلاتے
یہ رنگ غنچہ جو اپنی گرہ میں زر ہوتا

جرأت قلندر بخش




جہاں کچھ درد کا مذکور ہوگا
ہمارا شعر بھی مشہور ہوگا

جرأت قلندر بخش




جلد خو اپنی بدل ورنہ کوئی کر کے طلسم
آ کے دل اپنا ترے دل سے بدل جاؤں گا

جرأت قلندر بخش




جلدی طلب بوسہ پہ کیجے تو کہے واہ
ایسا اسے کیا سمجھے ہو تم منہ کا نوالا

جرأت قلندر بخش