دکھائی کیوں دل وحشی کو چشم وہ جرأتؔ
شراب اور دوانے کو تو پلا لایا
جرأت قلندر بخش
دل جگر کی مرے پوچھے ہے خبر کیا ہے اے یار
نوک مژگاں پہ ذرا دیکھ نمودار ہے کیا
جرأت قلندر بخش
دل کی کیا پوچھے ہے اک قطرۂ خوں تھا ہمدم
سو غم عشق نے آتے ہیں اسے نوش کیا
جرأت قلندر بخش
دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیج
رہزنوں میں تو مسافر کو سر شام نہ بھیج
جرأت قلندر بخش
دل میں اب اس کے جو لہر آئی ہے گھر جانے کی
تو بھی رونے کی جھڑی دیدۂ خوں بار لگا
جرأت قلندر بخش
دل مضطر یہ کہے ہے وہیں لے چل ورنہ
توڑ چھاتی کے کواڑوں کو نکل جاؤں گا
جرأت قلندر بخش
دل وحشی کو خواہش ہے تمہارے در پہ آنے کی
دوانا ہے ولیکن بات کرتا ہے ٹھکانے کی
جرأت قلندر بخش

