چلی جاتی ہے تو اے عمر رفتہ
یہ ہم کو کس مصیبت میں پھنسا کر
جرأت قلندر بخش
چھوڑ کر تسبیح لی زنار اس بت کے لیے
تھے تو اہل دیں پر اس دل نے برہمن کر دیا
جرأت قلندر بخش
چپکے چپکے روتے ہیں منہ پر دوپٹہ تان کر
گھر جو یاد آیا کسی کا اپنے گھر میں آن کر
جرأت قلندر بخش
دور میں کیا اس کے کوئی نوبت عشرت بجائے
جب کہ خود گردوں ہو اک اوندھا سا نقارا پڑا
جرأت قلندر بخش
دیکھا زاہد نے جو اس روئے کتابی کو تو بس
ورق کفر لیا دفتر ایمان کو پھاڑ
جرأت قلندر بخش
دیکھنے کا جو کروں اس کے میں دعویٰ جرأتؔ
مجھ میں جرأت یہ کہاں اور مری بینائی کیا
جرأت قلندر بخش
دیکھو دزدیدہ نگہ سے تو نکل کر اک رات
چور سا کون کھڑا ہے پس دیوار لگا
جرأت قلندر بخش

