EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چلی جاتی ہے تو اے عمر رفتہ
یہ ہم کو کس مصیبت میں پھنسا کر

جرأت قلندر بخش




چھوڑ کر تسبیح لی زنار اس بت کے لیے
تھے تو اہل دیں پر اس دل نے برہمن کر دیا

جرأت قلندر بخش




چپکے چپکے روتے ہیں منہ پر دوپٹہ تان کر
گھر جو یاد آیا کسی کا اپنے گھر میں آن کر

جرأت قلندر بخش




دور میں کیا اس کے کوئی نوبت عشرت بجائے
جب کہ خود گردوں ہو اک اوندھا سا نقارا پڑا

جرأت قلندر بخش




دیکھا زاہد نے جو اس روئے کتابی کو تو بس
ورق کفر لیا دفتر ایمان کو پھاڑ

جرأت قلندر بخش




دیکھنے کا جو کروں اس کے میں دعویٰ جرأتؔ
مجھ میں جرأت یہ کہاں اور مری بینائی کیا

جرأت قلندر بخش




دیکھو دزدیدہ نگہ سے تو نکل کر اک رات
چور سا کون کھڑا ہے پس دیوار لگا

جرأت قلندر بخش