EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم ہیں وہ جنس کہ کہتے ہیں جسے غم جرأتؔ
ہے محبت کے سوا کون خریدار اپنا

جرأت قلندر بخش




ہم نشیں اس کو جو لانا ہے تو لا جلد کہ ہم
تھامے بیٹھے رہیں کب تک دل مضطر اپنا

جرأت قلندر بخش




حشمت دنیا کی کچھ دل میں ہوس باقی نہیں
عشق کی دولت سے ہیں ایسے ہی عالی جاہ ہم

جرأت قلندر بخش




ہجر میں مضطرب سا ہو ہو کے
چار سو دیکھتا ہوں رو رو کے

جرأت قلندر بخش




ہوئی پیری میں اس گھر کی سی حالت خانۂ تن کی
در و دیوار گر کر جس مکاں کا اٹھ نہیں سکتا

جرأت قلندر بخش




اک بازیٔ عشق سے ہیں عاری
کھیلے ہیں وگرنہ سب جوئے ہم

جرأت قلندر بخش




الٰہی کیا علاقہ ہے وہ جب لیتا ہے انگڑائی
مرے سینے میں سب زخموں کے ٹانکے ٹوٹ جاتے ہیں

جرأت قلندر بخش