جس نور کے بکے کو مہ و خور نے نہ دیکھا
کمبخت یہ دل لوٹے ہے اس پردہ نشیں پر
جرأت قلندر بخش
جو آج چڑھاتے ہیں ہمیں عرش بریں پر
دو دن کو اتاریں گے وہی لوگ زمیں پر
جرأت قلندر بخش
جو کہ سجدہ نہ کرے بت کو مرے مشرب میں
عاقبت اس کی کسی طور سے محمود نہیں
جرأت قلندر بخش
کافر ہوں جو محرم پہ بھی ہاتھ اس کے لگا ہو
مشہور غلط محرم اسرار ہوئے ہم
جرأت قلندر بخش
کہیے کیوں کر نہ اسے بادشہ کشور حسن
کہ جہاں جا کے وہ بیٹھا وہیں دربار لگا
جرأت قلندر بخش
کیفیت محفل خوباں کی نہ اس بن پوچھو
اس کو دیکھوں نہ تو پھر دے مجھے دکھلائی کیا
جرأت قلندر بخش
کل اس صنم کے کوچے سے نکلا جو شیخ وقت
کہتے تھے سب ادھر سے عجب برہمن گیا
جرأت قلندر بخش

