دوستو ٹانکے نہ دو احسان ٹک اتنا کرو
لے چلو مجھ کو وہیں تم میں جہاں ٹکڑے ہوا
جرأت قلندر بخش
دوریٔ یار سے ہووے تو کسی شکل نجات
روز ہم اس لیے ہو آتے ہیں دو چار کے پاس
جرأت قلندر بخش
ایک تو مرضی نہ تھی جانے کو میری اس طرف
تس پہ دل آنکھوں سے باراں خوں کا برساتا رہا
جرأت قلندر بخش
فربہ تنی کی فکر میں ناداں ہیں روز و شب
آخر کو جانتے نہیں ہے یہ غذائے مرگ
جرأت قلندر بخش
غم مجھے ناتوان رکھتا ہے
عشق بھی اک نشان رکھتا ہے
جرأت قلندر بخش
گر کہیں پاؤں اکیلا تو بلائیں لے کر
کس مزے سے تجھے لوں چھاتی سے دل دار لگا
جرأت قلندر بخش
گر ملوں میں کف افسوس تو ہنستا ہے وہ شوخ
ہاتھ میں ہاتھ کسی شخص کے دے کر اپنا
جرأت قلندر بخش

