EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دوستو ٹانکے نہ دو احسان ٹک اتنا کرو
لے چلو مجھ کو وہیں تم میں جہاں ٹکڑے ہوا

جرأت قلندر بخش




دوریٔ یار سے ہووے تو کسی شکل نجات
روز ہم اس لیے ہو آتے ہیں دو چار کے پاس

جرأت قلندر بخش




ایک تو مرضی نہ تھی جانے کو میری اس طرف
تس پہ دل آنکھوں سے باراں خوں کا برساتا رہا

جرأت قلندر بخش




فربہ تنی کی فکر میں ناداں ہیں روز و شب
آخر کو جانتے نہیں ہے یہ غذائے مرگ

جرأت قلندر بخش




غم مجھے ناتوان رکھتا ہے
عشق بھی اک نشان رکھتا ہے

جرأت قلندر بخش




گر کہیں پاؤں اکیلا تو بلائیں لے کر
کس مزے سے تجھے لوں چھاتی سے دل دار لگا

جرأت قلندر بخش




گر ملوں میں کف افسوس تو ہنستا ہے وہ شوخ
ہاتھ میں ہاتھ کسی شخص کے دے کر اپنا

جرأت قلندر بخش