EN हिंदी
تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا | شیح شیری
tan mein dam rok main ba der rakha

غزل

تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا

جرأت قلندر بخش

;

تن میں دم روک میں بہ دیر رکھا
آؤ جی کس نے تم کو گھیر رکھا

ہم گئے واں تو یاں وہ آیا واہ
خوب قسمت نے ہیر پھیر رکھا

کر گیا وہ ہی راہ عشق کو طے
یاں قدم جس نے ہو دلیر رکھا

سب کو عاجز کیا فلک نے پر ایک
آہوئے دل پہ غم کو شیر رکھا

جا کے بیٹھے جو کوئے یار میں ہم
واں سے باہر قدم نہ پھیر رکھا

بعد مدت وہ دیکھ کر بولا
کس نے یاں خاک کا یہ ڈھیر رکھا

شکر اے درد عشق تو نے سدا
زندگانی سے ہم کو سیر رکھا

کیسا گھبرا گیا وہ کل ہم نے
ٹک جو رستے میں اس کو گھیر رکھا

خیر ہو یا الٰہی جرأتؔ نے
عاشقی میں قدم کو پھیر رکھا