EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اعمال کی پرسش نہ کر اے داور محشر
مجبور تو مختار کبھی ہو نہیں سکتا

جوشؔ ملسیانی




آنے والی ہے کیا بلا سر پر
آج پھر دل میں درد ہے کم کم

جوشؔ ملسیانی




اور ہوتے ہیں جو محفل میں خموش آتے ہیں
آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں

جوشؔ ملسیانی




گلہ نا مہربانی کا تو سب سے سن لیا تم نے
تمہاری مہربانی کی شکایت ہم بھی رکھتے ہیں

جوشؔ ملسیانی




اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خلل
احباب زیر خاک سلا کر چلے گئے

جوشؔ ملسیانی




عشق اس درد کا نہیں قائل
جو مصیبت کی انتہا نہ ہوا

جوشؔ ملسیانی




جھکتی ہے نگاہ اس کی مجھ سے مل کر
دیوار سے دھوپ اتر رہی ہے گویا

جوشؔ ملسیانی