EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا

جوشؔ ملیح آبادی




ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا
جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا

جوشؔ ملیح آبادی




تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے
گلوں کو کھل کے مرجھانا پڑا ہے

جوشؔ ملیح آبادی




اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا
رنگ دیکھو غریب خانے کا

جوشؔ ملیح آبادی




وہاں سے ہے مری ہمت کی ابتدا واللہ
جو انتہا ہے ترے صبر آزمانے کی

جوشؔ ملیح آبادی




وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا

جوشؔ ملیح آبادی




ذرا آہستہ لے چل کاروان کیف و مستی کو
کہ سطح ذہن عالم سخت نا ہموار ہے ساقی

جوشؔ ملیح آبادی