سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا
جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا
جوشؔ ملیح آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا
جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا
جوشؔ ملیح آبادی
تبسم کی سزا کتنی کڑی ہے
گلوں کو کھل کے مرجھانا پڑا ہے
جوشؔ ملیح آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا
رنگ دیکھو غریب خانے کا
جوشؔ ملیح آبادی
ٹیگز:
| خوش آمدید |
| 2 لائنیں شیری |
وہاں سے ہے مری ہمت کی ابتدا واللہ
جو انتہا ہے ترے صبر آزمانے کی
جوشؔ ملیح آبادی
ٹیگز:
| صابر |
| 2 لائنیں شیری |
وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ
جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا
جوشؔ ملیح آبادی
ٹیگز:
| شکوہ |
| 2 لائنیں شیری |
ذرا آہستہ لے چل کاروان کیف و مستی کو
کہ سطح ذہن عالم سخت نا ہموار ہے ساقی
جوشؔ ملیح آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

