EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بس کر یہ خیال آفرینی
اس کے ہی خیال میں رہا کر

جوشش عظیم آبادی




بے گنہ کہتا پھرے ہے آپ کو
شیخ نسل حضرت آدم نہیں

جوشش عظیم آبادی




بھول جاتا ہوں میں خدائی کو
اس سے جب رام رام ہوتی ہے

جوشش عظیم آبادی




چشم وحدت سے گر کوئی دیکھے
بت پرستی بھی حق پرستی ہے

جوشش عظیم آبادی




چھپ چھپ کے دیکھتے ہو بہت اس کو ہر کہیں
ہوگا غضب جو پڑ گئی اس کی نظر کہیں

جوشش عظیم آبادی




داغ جگر کا اپنے احوال کیا سناؤں
بھرتے ہیں اس کے آگے شمع و چراغ پانی

جوشش عظیم آبادی




دھیان میں اس کے فنا ہو کر کوئی منہ دیکھ لے
دل وہ آئینہ نہیں جو ہر کوئی منہ دیکھ لے

جوشش عظیم آبادی