میرے رونے کا جس میں قصہ ہے
عمر کا بہترین حصہ ہے
جوشؔ ملیح آبادی
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عذاب تیرا
جوشؔ ملیح آبادی
ملے جو وقت تو اے رہرو رہ اکسیر
حقیر خاک سے بھی ساز باز کرتا جا
جوشؔ ملیح آبادی
مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا
جوشؔ ملیح آبادی
پہچان گیا سیلاب ہے اس کے سینے میں ارمانوں کا
دیکھا جو سفینے کو میرے جی چھوٹ گیا طوفانوں کا
جوشؔ ملیح آبادی
شباب رفتہ کے قدم کی چاپ سن رہا ہوں میں
ندیم عہد شوق کی سنائے جا کہانیاں
جوشؔ ملیح آبادی
صرف اتنے کے لیے آنکھیں ہمیں بخشی گئیں
دیکھیے دنیا کے منظر اور بہ عبرت دیکھیے
جوشؔ ملیح آبادی

