EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

نہ مٹ سکا نہ مٹے گا کبھی نشاں میرا
لیا اجل نے کئی بار امتحاں میرا

جگر بریلوی




نہیں علاج غم ہجر یار کیا کیجے
تڑپ رہا ہے دل بے قرار کیا کیجے

جگر بریلوی




نہیں کہ جرم محبت کا اعتراف نہیں
مگر ہوں خوش کہ مری یہ خطا معاف نہیں

جگر بریلوی




قدم ملا کے زمانے کے ساتھ چل نہ سکے
بہت سنبھل کے چلے ہم مگر سنبھل نہ سکے

جگر بریلوی




سانس لینے میں درد ہوتا ہے
اب ہوا زندگی کی راس نہیں

جگر بریلوی




تم نہیں پاس کوئی پاس نہیں
اب مجھے زندگی کی آس نہیں

جگر بریلوی




یہ شعر میرے اسے سنا دو
پوچھے جو کوئی جگرؔ میں کیا ہوں

جگر بریلوی