آج کیا جانے کیا ہے ہونے کو
جی بہت چاہتا ہے رونے کو
جگر بریلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
آستاں بھی کوئی مل جائے گا اے ذوق نیاز
سر سلامت ہے تو سجدہ بھی ادا ہو جائے گا
جگر بریلوی
ٹیگز:
| تعظیم |
| 2 لائنیں شیری |
درد ہو دکھ ہو تو دوا کیجے
پھٹ پڑے آسماں تو کیا کیجے
جگر بریلوی
ٹیگز:
| ڈار |
| 2 لائنیں شیری |
ہم اور اٹھائیں گے احسان جاں نوازی کے
ہمیں تو سانس بھی لینا گراں گزرتا ہے
جگر بریلوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عشق کو دیجئے جنوں میں فروغ
درد سے درد کی دوا کیجئے
جگر بریلوی
عشق کو ایک عمر چاہئے اور
عمر کا کوئی اعتبار نہیں
جگر بریلوی
عشق میں قدر خستگی کی امید
اے جگرؔ ہوش کی دوا کیجئے
جگر بریلوی

