EN हिंदी
کس لئے کیجے بزم آرائی | شیح شیری
kis liye kije bazm-arai

غزل

کس لئے کیجے بزم آرائی

جاوید اختر

;

کس لئے کیجے بزم آرائی
پر سکوں ہو گئی ہے تنہائی

پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی

یوں سکوں آشنا ہوئے لمحے
بوند میں جیسے آئے گہرائی

اک سے اک واقعہ ہوا لیکن
نہ گئی تیرے غم کی یکتائی

کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی

ڈھلکی شانوں سے ہر یقیں کی قبا
زندگی لے رہی ہے انگڑائی