EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں
کہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں

جون ایلیا




ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

جون ایلیا




ہمیں شکوہ نہیں اک دوسرے سے
منانا چاہئے اس پر خوشی کیا

جون ایلیا




حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا
سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو

جون ایلیا




ہر شخص سے بے نیاز ہو جا
پھر سب سے یہ کہہ کہ میں خدا ہوں

جون ایلیا




ہو کبھی تو شراب وصل نصیب
پئے جاؤں میں خون ہی کب تک

جون ایلیا




ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد
دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

جون ایلیا