EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے

جون ایلیا




کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ مرا طور زندگی ہی نہیں

جون ایلیا




کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

جون ایلیا




کل کا دن ہائے کل کا دن اے جونؔ
کاش اس رات ہم بھی مر جائیں

جون ایلیا




کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

جون ایلیا




کون سے شوق کس ہوس کا نہیں
دل مری جان تیرے بس کا نہیں

جون ایلیا




خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

جون ایلیا